وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں یہی پھول خار سے دور ہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانی ٴدل و جاں نہیں کہو کیا ہے وہ جو یہاں نہیں مگر اک نہیں کہ وہ …

وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں Read More »