ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے

ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے تاج سر بنتے ہیں سیاروں کے ہم سے چوروں پہ جو فرمائیں کرم خلعت زر بنیں پشتاروں کے میرے آقا کو جو در ہے جس پر ماتھے گھس جاتے ہیں سرداروں کے میرے عیسیٰ تیرے صدقے جاؤں طور بے طور ہیں بیماروں کے …

ذرے جھڑ کر تیری پیزاروں کے Read More »