آنکھیں بھگو کے دِل کو ہلا کر چلے گئے

آنکھیں بھگو کے دِل کو ہلا کر چلے گئے آنکھیں بھگو کے دِل کو ہلا کر چلے گئے ایسے گئے کہ سبکو رُلا کر چلے گئے افتا کی شان علم و درکا وقار تھے سادہ مزاج دل کا دل کی بہار تھے محفل ہر ایک سنّی بنا کر چلے گئے۔ عمر تمام دین کی خدمت …

آنکھیں بھگو کے دِل کو ہلا کر چلے گئے Read More »