ہم کو اپنی طلب سے سِوا چاہئے

ہم کو اپنی طلب سے سِوا چاہئے
آپ والہﷺ جیسے ہیں ویسی عطا چاہیۓ
کیوں کہوں یہ عطا ہو وہ عطا چاہیۓ
آپ والہﷺ کو معلوم ہے ہم کو کیا چاہیۓ
اک قدم بھی نہ ہم چل سکیں گے حضور والہﷺ
ہر قدم پر کرم آپ والہﷺ کا چاہیۓ
بھر کے جھولی میری میرے سرکار والہﷺ نے
مسکرا کر کہا اور کیا چاہیۓ
آپ والہﷺ اپنی غلامی کی دے دیں سَنَد
بس یہی عزت و مرتبہ چاہیۓ
آپ والہﷺ کے عشق میں یہ ہم تڑپتے تو ہیں
مگر ہر تڑپ میں بلالی ؓ /اویسی ؓ ادا چاہیۓ
یہ تمنّا ہو پوری “شَہِ دوسَرا والہﷺ”
ہم کو قدموں میں تھوڑی سی جا چاہیۓ
حشر کی چلچلاتی ہوئی دھوپ میں
آپ والہﷺ کے دامن کی ٹھنڈی ہوا چاہیۓ
فضلِ رب العُلیٰ اور کیا چاہیۓ
دامنِ مصطفیٰ والہﷺ اور کیا چاہیۓ
سَبز گُبند کے ہمسائیگی بخش دے
یہ مسلسل کَرم اَے خدا چاہئے
آستانِ “حبیبِ خدا والہﷺ” چاہئے
ہم کو اس کے سِوا اور کیا چاہیۓ
اپنے تلوؤں کا دھون عطا کیجیے
ہم مریضوں کو آبِ شفا چاہیۓ
درد جامی ؒ ملے نعت خالدؔ لکھوں
اور اندازِ احمد رضا ؒ چاہئے
اللهم صل على سيدنا محمد النبي الأمي
وعلى آلہ وازواجہ واھل بیتہ واصحٰبہ وبارك وسلم
اللھم ربّنا آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published.