کرتے نہیں ہیں وہ کبھی اہلِ عطا کا رُخ

کرتے نہیں ہیں وہ کبھی اہلِ عطا کا رُخ

بحضورِ سیّد المُرسَلین، صلّی اللّٰهُ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلّم
کرتے نہیں ہیں وہ کبھی اہلِ عطا کا رُخ
عیدِ نظر ہو جن کے لئے مصطفٰیؐ کا رُخ
رکھیں نگاہ میں وہ ذرا کربلا کا رُخ
جو لوگ دیکھتے ہیں ہمیشہ ہوا کا رُخ
دو دائرے ہیں خطِ مستقیم کے
کعبے کی سمت اور شہِؐ اِنّما کا رُخ
پیش نگاہِ خلق ہے اللّٰــہ کی رضا
اللّٰــہ دیکھتا ہے نبیؐ کی رضا کا رُخ
ہیں سرنگوں ادب سے فراعینِ وقت بھی
کتنا ہے پُر جلال رسولِؐ خدا کا رُخ
تھا خواب میں بھی ساتھ ہجومِ تجلّیات
دیکھا نہ جا سکا شہِؐ بدرُ الدُّجٰی کا رُخ
اُڑنے لگے جو خاکِ بدن میری بعدِ مرگ
شہرِ نبیؐ کی سمت ہو یا ربّ ہوا کا رُخ
انساں، یزیدیت سے نبرد آزما رہے
اِک یہ بھی ہے موَدّتِ آلِ عباؑ کا رُخ
تحویلِ قبلہ ہو گئی فوراً اُسی طرف
دیکھا خدا نے جس طرف اُن کی رِضا کا رُخ
سمجھو کہ اُس کا نجمِ مقدّر چمک اُٹھا
ہو جاۓ اُنؐ کے در کی طرف جس گدا کا رُخ
چشمِ صحابہؓ وقفِ جمالِ نبیؐ رہی
دیکھا پلٹ کے بھی نہ کسی مہ لقا کا رُخ
مَیں مانگتا ہوں اُن کے وسیلے سے اے نصیرؔ
اُن کی طرف ہے اِس لئے دستِ دُعا کا رُخ

Leave a Comment