زمیں سے آسماں تک، آسماں سے لا مکاں پہنچے

زمیں سے آسماں تک، آسماں سے لا مکاں پہنچے

شبِ معراج ﷺ
زمیں سے آسماں تک، آسماں سے لا مکاں پہنچے
جہاں کوئی نہ پہنچا سرورِؐ عالَم وہاں پہنچے
رُکے جبریلؑ لیکن اُن کو جانا تھا وہاں پہنچے
محمد مصطفٰےؐ عرشِ علٰی تک بے گُماں پہنچے
پکارا جب کسی نے ” یامحمد مصطفٰےؐ “ کہہ کر
مدد کو اپنے فریادی کی شاہِؐ انس و جاں پہنچے
مقامِ کِبریا آگے ہے ادراک و تخیّل سے
شبِ معراج یہ کس کو خبر ہے وہؐ کہاں پہنچے
نصؔیرؒ اب ایک ہی دُھن ہے کہ دیکھیں کب زیارت ہو
دیارِ مصطفٰےؐ میں کب ہمارا کارواں پہنچے
پیر نصیر الدین۔ گیلانی

Leave a Comment