ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا، نہ کہیں ہے

ایسا کوئی محبوب نہ ہوگا، نہ کہیں ہے
بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے
ملتا نہیں کیا کیا دو جہاں کو ترے در سے
اک لفظ نہیں ہے کہ ترے لب پہ نہیں ہے
ہیں تیرے ہوا خواہوں میں مرسل بھی، نبی بھی
کونین ترے زیرِ اثر، زیرِ نگیں ہے
تو چاہے تو ہر شب ہو مثالِ شبِ اسریٰ
تیرے لیے دو چار قدم عرشِ بریں ہے
ہر اک کو میسر کہاں اُس در کی غلامی
اُس در کا تو دربان بھی جبریل امیں ہے
رُکتے ہیں یہیں آ کے قدم اہلِ نظر کے
اس کوچے سے آگے نہ زماں ہے، نہ زمیں ہے
اے شاہِ زمن! اب تو زیارت کا شرف دے
بے چین ہیں آنکھیں مری، بے تاب جبیں ہے
دل گریہ کناں اور نظر سوئے مدینہ
اعظم ترا اندازِ طلب کتنا حسیں ہے___!!!
سیدنا کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم🥀

Leave a Reply

Your email address will not be published.